سنن النسائي - حدیث 2989

الْمَوَاقِيتِ كَمْ طَوَافُ الْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2989

کتاب: مواقیت کا بیان قران اور تمتع کرنے والا صفا ومروہ کے کتنے طواف کرے گا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے صفا ومروہ کا صرف ایک دفعہ طواف کیا۔ یہاں طواف سے سعی مراد ہے۔ صرف حج کرنے والا متفقہ طور پر ایک ہی سعی کرے گا، چاہے طواف قدوم کے ساتھ کرے یا طواف زیارت کے ساتھ۔ طواف وداع میں سعی نہیں ہوتی۔ تمتع کرنے والے پر جمہور اہل علم کے نزدیک عمرے کی الگ سعی ہے اور حج کی الگ۔ گویا وہ دو دفعہ سعی کرے گا۔ صرف امام احمد کا ایک مختلف فیہ قول بیان کیا گیا ہے کہ متمتع کو بھی ایک سعی ہی کافی ہے۔ لیکن احادیث کی روشنی میں یہ موقف مرجوح ہے۔ اصل اختلاف قارن کے بارے میں ہے۔ احناف کے نزدیک قارن بھی دو دفعہ سعی کرے گا۔ ایک دفعہ عمرے میں اور دوسری دفعہ حج میں، مگر امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ قارن کے لیے ایک سعی ہی کافی سمجھتے ہیں جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور یہی بات راجح ہے۔ واللہ ا علم