سنن النسائي - حدیث 2971

الْمَوَاقِيتِ ذِكْرُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صحيح أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2971

کتاب: مواقیت کا بیان صفا اور مروہ کا ذکر حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا} ’’اس (حاجی اور معتمر) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں (صفا اور مروہ) کا طواف کرے۔‘‘ کے بارے میں پوچھا کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تو اللہ کی قسم! اسے کوئی گناہ نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اے بھانجے! تو نے بہت غلط بات کہی۔ اگر اس آیت کا مطلب یہ ہوتا جو تو بیان کرتا ہے تو آیت اس طرح ہوتی: ’’(حج یا عمرے کرنے والا) اگر وہ صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تو اسے کوئی گناہ نہیں۔‘‘ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ اسلام لانے سے پہلے منات بت کے نام پر احرام باندھتے تھے۔ اس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ وہ مشلل کے مقام پر نصب تھا۔ جو لوگ اس بت کے نام پر احرام باندھتے تھے، وہ صفا اور مروہ کے چکر لگانے کو گناہ سمجھتے تھے، پھر (اسلام لانے کے بعد) انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ…} ’’صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ علامات میں سے ہیں، لہٰذا جو شخص حج یا عمرے کا احرام باندھے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کے چکر لگائے۔‘‘ پھر رسول اللہﷺ نے ان کے درمیان چکر لگانا جاری فرما دیا، چنانچہ اب کسی کو اجازت نہیں کہ وہ ان میں چکر لگانا چھوڑ دے۔ حضرت عائشہؓ کا استدلال کس قدر مضبوط ہے کہ اگر یہ طواف ضروری نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ صراحتاً بیان فرماتا کہ جو طواف نہ کرے،ا سے کوئی گناہ نہیں جبکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو طواف کرے، اسے کوئی گناہ نہیں۔ گویا کچھ لوگ ان کے طواف میں گناہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا وہم دور کرنے کے لیے یہ آیت اتری۔ اس آیت میں اس طواف کے وجوب واستحباب کی بحث نہیں بلکہ اس کا وجوب اس آیت کے ابتدائی حصے اور رسول اللہﷺ کے طرز عمل اور فرامین سے معلوم ہوتا ہے۔ (دیکھیے، حدیث نمبر: ۲۹۷۰) صفا مروہ کے طواف میں گناہ محسوس کرنے والے دو گروہ تھے: ایک تو وہ جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے۔ دوسرے وہ جو جاہلیت میں صفا مروہ کا طواف کرتے تھے مگر اسلام لانے کے بعد انھوں نے اسے گناہ سمجھا۔ اس آیت نے ان دونوں قسم کے گروہوں کی غلط فہمی دور کر دی۔ اب سعی کرنا ضروری ہے جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عائشہؓ کے آخری الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ امام شافعی، احمد اور دیگر محدثین رحمہم اللہ سب سعی کو رکن سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر حج و عمرہ نہیں ہوگا۔ احناف کے مسلک کی تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے۔