سنن النسائي - حدیث 296

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب غَسْلِ الْمَنِيِّ مِنْ الثَّوْبِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 296

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ کپڑے سے منی دھونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (منی) کو دھو دیتی تھی، پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے جب کہ پانی کے نشانات آپ کے کپڑے میں نظر آتے تھے۔ (۱) جنابت سے سبب جنابت، یعنی منی مراد ہے۔ منی کو کپڑے سے دھونے سے معلوم ہوتا ہے کہ منی پلید ہے اور یہ جمہور اہل علمم کا موقف ہے۔ ان کے بقول مخرج کے لحاظ سے بھی یہ بات زیادہ قوی ہے۔ سابقہ حدیث میں لفظ أذی بھی مؤید ہے کیونکہ یہ لفظ قرآن مجید میں حیض کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور حیض بالاتفاق پلید ہے، جب کہ بعض حضرات جن کے سرخیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، منی کو پاک سمجھتے ہیں۔ باقی رہا دھونا تو یہ نجاست کی دلیل نہیں، بلکہ نظافت کے لیے بھی دھویا جا سکتا ہے، جیسے ناک کی غلاظت یا بلغم وغیرہ کپڑے کو لگ جائے، تب بھی کپاڑ دھویا جاتا ہے، خصوصاً جب کہ کئی دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف کپڑا ملنے اور رگڑنے کو کافی سمجھا ہے۔ ویسے بھی منی انبیاء و صلحاء کا مبدا ہے۔ یہ بدبو سے بھی پاک ہے، اس لیے اس مسلک کے حاملین کے نزدیک اسے دوسری پلید چیزوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (۲) سارا کپڑا دھونا ضروری نہیں۔ صرف آلودگی والی جگہ دھو لی جائے۔ (۳) جس کپڑے سے منی دھوئی جائے، اس کے خشک ہونے سے پہلے نماز کے لیے مسجد میں جایا جا سکتا ہے۔