سنن النسائي - حدیث 2949

الْمَوَاقِيتِ الْعِلَّةُ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2949

کتاب: مواقیت کا بیان نبیﷺ نے کس وجہ سے رمل فرمایا تھا؟ حضرت زبیر بن عدی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ وہ آدمی کہنے لگا: فرمائیے اگر بہت بھیڑ ہو اور میںبے بس ہو جاؤں تو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنا ’’فرمائیے‘‘ یمن ہی میں رہنے دے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ حجر اسود کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے۔ (۱) سوال کرنے والا شخص یمنی تھا جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے دوسرے جواب سے ظاہر ہوتا ہے۔ (۲) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ سنت کی ادائیگی میں بساط بھر کوشش کرنی چاہیے۔ حیلے بہانوں سے اس سے فرار کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ظاہر ہے ہر کام میں کچھ نہ کچھ محنت اور مشقت بلکہ تکلیف لازمی چیز ہے، لہٰذا اس سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر اور حوصلے کے ساتھ لگے رہیں، مقصد میں کامیابی ہوگی اس سلسلے میں جو وقت اور تکلیف صرف ہوں گے، اس کا ثواب ملے گا، البتہ حجر اسود کی تقبیل کی خاطر کسی کو ایذا نہ پہنچائے، دھکم پیل نہ کرے بلکہ نرمی اور محنت سے مقصود حاصل کرے، ہاں اگر بغیر دھکم پیل یا مار دھاڑ کے تقبیل ممکن نہ ہو تو رہنے دے۔ یہ کوئی فرض نہیں جیسے کہ حدیث نمبر ۲۹۴۱ میں مذکور ہے۔ (۳) اس روایت کا متعلقہ باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہ روایت دراصل آئندہ باب سے متعلق ہے۔ یہ کسی ناسخ (ناقل) کے تصرف سے ہو گیا ہے۔