سنن النسائي - حدیث 2940

الْمَوَاقِيتِ تَقْبِيلُ الْحَجَرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَجَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ ثُمَّ دَنَا مِنْهُ فَقَبَّلَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2940

کتاب: مواقیت کا بیان حجر اسود کو بوسہ دینا حضرت عابس بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور فرمایا: مجھے یقین ہے کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نبہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر اس کے قریب ہوئے اور بوسہ دیا۔ (۱) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام کا مقصود یہ ہے کہ حجر اسود کی پوجا نہیں کرتے، نہ اسے نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں۔ ہم تو رسول اللہﷺ کی پیروی میں اسے بوسہ دیتے ہیں۔ آپ نے یہ بات عوام الناس کا عقیدہ درست رکھنے کے لیے اور انھیں غلط فہمی سے بچانے کے لیے فرمائی۔ رسول اللہﷺ کا حجر اسود کو بوسہ دینا اس کے ’’جنتی‘‘ ہونے کی وجہ سے تھا اور اس وجہ سے تھا کہ وہ گناہوں کو ساقط کرنے کا سبب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے ان بزرگوں کے موقف کو تائید حاصل ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ جن چیزوں کو رسول اللہﷺ نے بوسہ نہیں دیا، انھیں بوسہ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ویسے بھی حجر اسود کے علاوہ دوسری چیزیں جنت سے نہیں آئیں۔ (۲) امور دین میں شارع علیہ السلام کی اتباع واجب ہے، چاہے ہمیں اس کام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ (۳) اگر عوام کا عقیدے کی خرابی میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو امام یا عالم کو اپنے ایسے عمل کی وضاحت کر دینی چاہیے۔