سنن النسائي - حدیث 2935

الْمَوَاقِيتِ طَوَافُ الْقَارِنِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2935

کتاب: مواقیت کا بیان قران کرنے والا کتنے طواف کرے گا؟ حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھ اور ایک طواف کیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ ’’ایک طواف کیا‘‘ اس سے فرض طواف مراد ہے ورنہ یہ بات قطعی ہے کہ آپ نے مکہ مکرمہ جاتے ہی ایک طواف کیا تھا، پھر دس ذوالحجہ کو بھی طواف کیا تھا۔ پہلا طواف، طوافِ قدوم بھی تھا اور طواف عمرہ بھی۔ دوسرا طواف فرض تھا۔ اسے طواف افاضہ بھی کہا جاتا ہے۔ امام شافعی اور محدثین اسی بات کے قائل ہیں۔ احناف قران والے کے لیے تین طواف اور دو سعی کے قائل ہیں۔ طواف عمرہ، سعی عمرہ، طواف قدوم، طواف زیارت، سعی حج۔ مگر رسول اللہﷺ سے صرف دو طواف اور ایک سعی ثابت ہے اور احناف کے نزدیک نبی اکرمﷺ کا حج قران تھا۔ بعض محققین نے حدیث مذکور میں ایک طواف سے سعی مراد لی ہے کیونکہ سعی آپ نے واقعتاً ایک ہی کی تھی۔ احناف اس طواف سے تحلل مراد لیتے ہیں، یعنی آپ حج اور عمرے سے طواف زیارت کے بعد ہی حلال ہوئے تھے، مگر اس تاویل کے باوجود احناف کا مسلک ثابت نہیں ہوتا کہ قارن تین طواف کرے۔ یہ بحث پیچھے بھی گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: ۲۷۴۷)