سنن النسائي - حدیث 2923

الْمَوَاقِيتِ الْكَلَامُ فِي الطَّوَافِ صحيح أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2923

کتاب: مواقیت کا بیان طواف میں کلام کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ کعبے کے طواف کے دوران میں ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک اور شخص اسے لے جا رہا تھا۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے وہ نکیل (رسی) کاٹ دی اور فرمایا: ’’اسے ہاتھ سے پکڑ کر چلاؤ۔‘‘ (۱) طواف عبادت ہے بلکہ اسے نماز بھی کہا گیا ہے کیونکہ طواف بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مشروع کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں فالتو کلام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کا ذکر اور دعا ہو، البتہ کوئی ضروری یا علمی بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ اس حدیث میں ناواقف کو مسئلہ بتایا گیا ہے۔ (۲) ’’نکیل ڈال کر‘‘ نکیل ڈال کر چلنا چلانا بھی زہد اور عبادت کا ایک حصہ سمجھ لیا گیا تھا، مگر نکیل جانور کو ڈالی جاتی ہے، انسان کو نہیں کیونکہ وہ سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زبان سے سمجھایا جائے یا ہاتھ سے پکڑ کر چلایا جائے۔ انسانوں کے لیے جانوروں کی مشابہت فطرت انسانیہ کے خلاف ہے۔ اسلام جو کہ دین فطرت ہے، ایسے برے کام کو عبادت کے نام پر کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ اس لیے آپ نے روکا۔