سنن النسائي - حدیث 2906

الْمَوَاقِيتِ بِنَاءُ الْكَعْبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ قَالَ يَزِيدُ وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِكَةً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2906

کتاب: مواقیت کا بیان تعمیر کعبہ کا بیان حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اے عائشہ! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تیری قوم کا دورِ جاہلیت ابھی قریب ہے تو میں کعبے کو گرانے کا حکم دیتا اور اس میں وہ حصہ بھی داخل کر دیتا جو اس سے نکال دیا گیا ہے۔ اور میں اس کا دروازہ زمین کے برابر لگا دیتااور اس کے دروازے بنا دیتا، ایک مشرقی، ایک مغربی کیونکہ قریش مکہ اس کی مکمل تعمیر سے عاجز آگئے تھے (کہ ان کا حلال مال ختم ہوگیا تھا)۔ اور میں اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صحیح بنیادوں پر تعمیر کرتا۔‘‘ حضرت عروہ نے کہا: یہی وجہ ہے جس نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو آمادہ کیا کہ کعبے کو گرا کر (رسول اللہﷺ کی خواہش کے مطابق) تعمیر کریں۔ (راوی حدیث) یزید نے کہا: جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبے کو گرایا اور پھر بنایا تو میں حاضر تھا۔ آپ نے اس میں حجر کا کچھ حصہ داخل کر دیا تھا، نیز میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادیں بھی دیکھیں۔ وہ پتھر تھے اونٹوں کی کوہانوں جیسے، جنھیں ایک دوسرے میںپھنسا دیا گیا تھا۔ ’’حجر کا کچھ حصہ‘‘ گویا مکمل حجر بیت اللہ کا حصہ نہیں۔ کچھ حصہ حقیقتاً باہر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دیوار اس پورے حصے کے اردگرد بنا دی گئی ہے۔ دیوار ہی کی وجہ سے اسے حجر کہتے ہیں۔ آج کل بھی حجر یا حطیم کی دیوار پر اس جگہ نشان لگا دیے گئے ہیں جہاں تک بیت اللہ کا حصہ ہے۔