سنن النسائي - حدیث 289

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ } صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِثٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى الْآيَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَفَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَا: أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا , حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ، فَقَامَا , فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ لَبَنٍ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 289

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ اللہ کے فرمان:’’یہ لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں‘‘کی تفسیر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی قوم میں جب کسی عورت کو حیض شروع ہوتا تو وہ اس کے ساتھ مل جل کر کھاتے نہ پیتے تھے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے۔ صحابۂ اکرم رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: (ویسئلونک عن المحیض، قل ھو اذی……) ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، پ فرما دیجیے: وہ گندی چیز ہے………‘‘ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ مل جل کر کھائیں پئیں اور گھروں میں ان کے ساتھ رہیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کی محبت پیار کریں، سوائے جماع کے (کہ وہ حرام ہے۔) یہودی کہنے لگے: یہ رسول ہماری ہر چیز میں مخالفت کرتا ہے تو اسید بن حضیر اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس بات کی خبر دی، پھر کہنے لگے، کیا ہم حیض کی حالت میں ان کے ساتھ جماع بھی نہ کرلیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سختی سے بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا، آپ ان پر ناراض ہوگئے ہیں، چنانچہ وہ دونوں اٹھ کر چلے گئے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آگیا تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور انھیں واپس بلوایا اور انھیں دودھ پلایا تو وہ سمجھ گئے کہ آپ ہم پر ناراض نہیں ہیں۔ (۱) حائضہ عورت کے ساتھ یہودیوں کا سلوک انتہائی توہین آمیز تھا جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ وہ حیض کی حالت میں عورت کو اچھوت بنا دیتے تھے حتی کہ اس کی رہائش بھی الگ ہو جاتی تھی، جب کہ عیسائی حیض اور غیر حیض میں کوئی فرق نہ کرتے تھے، وہ حیض کی حالت میں جماع تک کر لیتے تھے۔ اسلام نے، جو دین اعتدال ہے، میانہ روی اختیار کی کہ انھیں اچھوت بنایا نہ جماع کی اجازت دی اور یہی حق ہے۔ (۲) قرآن مجید نے حائضہ سے جماع کے منع کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ حیض کا خون نجس ہے اور نجاست میں لتھڑنا فطرت کے خلاف ہے، لہٰذا حیض ختم ہونے بلکہ ان کے غسل کرنے تک جماع حرام ہے۔ جب عورت بالکل پاک ہو جائے تو پھر جماع حلال ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کی ’’دبر‘‘ استعمال کرنا بھی حرام ہے کیونکہ وہ تو ہر وقت نجاست سے آلودہ رہتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک دوسری حدیث میں صراحتاً بھی اس کی حرمت آئی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي: الطھارۃ، حدیث: ۱۳۵) (۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب یہ تھا کہ کسی قوم کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ناجائز کام کرنے لگ جائیں۔ یہ تو ضد اور تعصب کا مظاہرہ ہوگا۔ یہودکی مخالفت بھی صرف ان کاموں میں ہے جو انھوں نے اپنی طرف سے دین میں شامل کیے ہیں اور جن میں وہ راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ہاں! بعض احکام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کا بھی حکم دیا ہے، جس سے مقصود ان سے امتیاز تھا۔ (۴) چونکہ آپ کی ناراضی صرف ایک غلط رویے کے خلاف تھی نہ کہ ان صحابہ پر، لہٰذا آپ نے انھیں واپس بلا کر دودھ پلایا۔