سنن النسائي - حدیث 2878

الْمَوَاقِيتِ تَحْرِيمُ الْقِتَالِ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقِتَالُ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2878

کتاب: مواقیت کا بیان مکہ مکرمہ میں لڑائی حرام ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ’’بلا شبہ یہ شہر حرام ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں لڑائی کرنی حلال نہ تھی اور مجھے بھی آج دن میں تھوڑی دیر کے لیے رخصت دی گئی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کی بنا پر (قیامت تک کے لیے) حرام رہے گا۔‘‘ مکہ مکرمہ میں قتال کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، نبیﷺ کو مختصر وقت کے لیے قتال کی اجازت دی گئی تھی، پھر بعد میں قیامت کے لیے اس میں قتال کو حرام قرار دے دیا گیا، لہٰذا اب کسی صورت میں بھی مکہ مکرمہ میں قتال کرنا درست نہیں، ہاں اگر خارجی دشمن حملہ آور ہو تو ارض مقدسہ کا دفاع کرنا ضروری ہے، حدود حرم میں حدود کا نفاذ مختلفہ فیہ مسئلہ ہے جس کی وضاحت آئندہ اوراق میں آئے گی۔