سنن النسائي - حدیث 2865

الْمَوَاقِيتِ دُخُولُ مَكَّةَ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حِينَ يَقْدَمُ إِلَى مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2865

کتاب: مواقیت کا بیان مکہ مکرمہ میں داخلہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو مقام ذو طویٰ میں رات گزارتے حتیٰ کہ وہیں صبح کی نماز پڑھتے۔ اور رسول اللہﷺ کے وہاں نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی۔ اس مسجد والی جگہ میں نہیں جو وہاں بعد میں بنائی گئی بلکہ اس سے کچھ نیچے ایک سخت ٹیلے پر۔ (۱) ’’ذوطویٰ‘‘ مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ایک مقام ہے، بلکہ اب مکہ مکرمہ ہی میں ہے، وہاں آپ رات گزارتے۔ صبح کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے، مگر ایسا کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ حالات اور زمانے کے تقاضے کے مطابق ہے۔ وقت فارغ ہے تو آپ بے شک رات وہاں ٹھہریں لیکن اگر وقت کی قلت ہے تو ٹھہرنا ضروری نہیں۔ اس سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگیے۔ (۲) ’’اس مسجد والی جگہ نہیں‘‘ جس وقت رسول اللہﷺ نے حج اور عمرے کیے تھے، اس وقت راستے میں کوئی مسجد نہیں تھی حتیٰ کہ ذوالحلیفہ میں بھی نہیں تھی، پھر جہاں جہاں آپ نے قیام فرمایا اور نمازیں پڑھیں، لوگوں نے تبرکاً وہاں مساجد بنا لیں۔ کوئی مسجد تو عین آپ کی نماز والی جگہ بنائی گئی اور بعض مساجد قریب کی جگہ میں۔ ممکن ہے صحیح جگہ کا پتا نہ چلا ہو یا اصل جگہ مسجد بن نہ سکتی ہو، وغیرہ۔