سنن النسائي - حدیث 285

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب مُضَاجَعَةِ الْحَائِضِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ قَالَ سَمِعْتُ خِلَاسًا يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ أَوْ حَائِضٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ يَعُودُ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 285

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ حالت حیض میں بیوی کے ساتھ لیٹنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں رات گزارتے تھے، حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی، چنانچہ اگر آپ کو مجھ سے کچھ (خونض لگ جاتا تو آپ صرف اتنی جگہ دھو لیتے، زائد نہ دھوتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھتے، پھر (دوبارہ میرے ساتھ) لیٹ جاتے، چنانچہ اگر کچھ (خون) مجھ سے آپ کے پکڑوں کو لگ جاتا تو اسی طرح کرتے، (صرف اتنی جگہ دھوتے) اس سے زائد نہ دھوتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے۔ (۱) کپڑوں پر جتنی جگہ نجاست لگی ہو، صرف اتنی جگہ دھونا کافی ہے۔ سارا کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اس قسم کے کپڑے میں بلا تردد نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ (۲) دوبارہ لیٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے تھے۔ وقفے کے بعد پھر لیٹ جاتے ہوں گے۔ واللہ أعلم۔