سنن النسائي - حدیث 2847

الْمَوَاقِيتِ النَّهْيُ عَنْ ذَلِكَ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ أَيَنْكِحُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ أَبَانُ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2847

کتاب: مواقیت کا بیان (محرم کو)نکاح سے ممانعت حضرت نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبیداللہ بن معمر نے حضرت ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا، وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا محرم نکاح کر سکتا ہے؟ تو حضرت ابان نے کہا: مجھے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’محرم نہ نکاح کرے، نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔‘‘ معلوم ہوا جس طرح احرام کی حالت میں نکاح حرام ہے اسی طرح نکاح کا پیغام یا تجویز یا منگنی کرنا بھی حرام ہے کیونکہ یہ نکاح کے مقدمات ہیں۔ بعض حضرات نے نکاح کے پیغام بھیجنے یا منگنی کرنے کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔ (یعنی جائز تو ہے مگر مناسب نہیں) لیکن یہ تاویل بلا دلیل بلکہ بلا وجہ ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک نکاح کا پیغام یا منگنی بھی نکاح ہی کی طرح حرام ہیں اور یہی صحیح ہے۔ حدیث نبوی پر کھلے دل اور خوشی سے عمل کرنا چاہیے۔ بلا وجہ تاویل مومن کی شان کے خلاف ہے۔