سنن النسائي - حدیث 2837

الْمَوَاقِيتِ قَتْلُ الْغُرَابِ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ قَالَ يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2837

کتاب: مواقیت کا بیان کوے کو قتل کرنا( محرم کے لیے جائز ہے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا: محرم کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’بچھو، چوہے، چیل، کوے اور کاٹنے والے کتے کو قتل کر سکتا ہے؟‘‘ کوے میں چیل والے سب مفاسد پائے جاتے ہیں، بلکہ قریب رہنے کی وجہ سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ پریشان بھی زیادہ کرتا ہے، لہٰذا اسے قتل کرنا جائز ہے۔ اوپر ایک حدیث: (۲۸۳۲) میں ابقع (جس کا پیٹ یا پشت سفید ہوتی ہے) کہ قید ہے، لہٰذا مطلق کوے سے مراد بھی یہی ہے۔ گھروں میں یہی آتا جاتا ہے۔ باقی رہا خالص سیاہ کوا تو وہ عموماً فصلوں میں ہوتا ہے۔ اس کا لوگوں کو کوئی نقصان نہیں، لہٰذا اسے مارنے کی ضرورت نہیں۔ وہ گندگی بھی نہیں کھاتا۔ صرف دانوں پر گزارا کرتا ہے۔ واللہ اعلم