سنن النسائي - حدیث 2818

الْمَوَاقِيتِ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنْ الصَّيْدِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ وَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2818

کتاب: مواقیت کا بیان محرم کے لیے کون سا شکار کھانا جائز ہے؟ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ حتیٰ کہ جب وہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے تو کچھ ساتھیوں کے ساتھ آپ سے پیچھے رہ گئے۔ وہ ساتھی محرم تھے مگر وہ (ابوقتادہ) محرم نہیں تھے۔ انھوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو وہ فوراً اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انھیں ان کا کوڑا پکڑا دیں۔ ان لوگوں نے انکار کیا، پھر انھوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا تو انھوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے (خود اتر کر) اسے (یعنی کوڑا) اٹھایا اور پھر جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اسے قتل کر دیا۔ (نبیﷺ کے کچھ صحابہ نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے انکار کیا، پھر جب وہ رسول اللہﷺ سے ملے تو آپ سے اس کی بابت پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ کھانا تھا جو اس نے تمھیں کھانے کے لیے مہیا فرمایا تھا۔‘‘ (۱) یہ عمرے کے سفر کی بات ہے۔ اس عمرے کو عمرۃ الحدیبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ۶ہجری میں ہوا۔ (۲) ’’وہ محرم نہیں تھے‘‘ دراصل آپ نے انھیں کسی اور کام پر بھیجا تھا۔ (۳) انھوں نے انکار کیا‘‘ کیونکہ محرم کے لیے شکار کرنا بھی منع ہے اور کسی شکار میں تعاون کرنا بھی حرام ہے۔ (۴)اگر محرم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ شکار ہی میں کچھ تعاون کیا ہو تو وہ محرم اس شکار کا گوشت کھا سکتا ہے بشرطیکہ شکار کرنے والا اور ذبح کرنے والا حلال ہو، محرم نہ ہو۔ بعض دوسری احادیث میں یہ شرط بھی ہے کہ شکار کرنے والے شخص نے وہ شکار محرم کے لیے نہ کیا ہو بلکہ اپنے لیے کیا ہو، بعد میں وہ بطور تحفہ محرم کو دے تو وہ کھا سکتا ہے۔ دیکھیے: (مسند احمد: ۵/ ۳۰۲، وجامع الترمذی، الحج، حدیث: ۸۴۹) یہ احادیث صحیح ہیں، لہٰذا یہ شرط بھی ضروری ہے۔ احناف بلا وجہ اس شرط کو ضروری نہیں سمجھتے مگر اس طرز عمل سے بہت سی احادیث عمل سے رہ جائیں گی جو یقینا غیر مناسب بات ہے۔ ہر صحیح حدیث واجب العمل ہے۔ (۵) اجتہاد کا دروازہ قیامنت تک کھلا ہے۔ (۶) مجتہد اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرے گا اگرچہ اس کی رائے کی مخالفت کی گئی ہو۔ (۷) جب کسی مسئلے میں اختلاف واقع ہو جائے تو نص کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔