سنن النسائي - حدیث 2807

الْمَوَاقِيتِ إِبَاحَةُ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنْ الْمَنِيِّ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ قَالَ وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ قَالَ هِيَ لِلْأَبَدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2807

کتاب: مواقیت کا بیان جس آدمی کے ساتھ قربانی کاجانور نہ ہو ‘وہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل سکتا ہے؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے، یعنی نبیﷺ کے صحابہ نے خالص حج کا احرام باندھا تھا۔ کسی اور چیز کی نیت نہیں تھی۔ صرف حج کی نیت تھی۔ ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو مکہ مکرمہ آئے تو نبیﷺ نے ہمیں حکم دیا: ’’اس احرام کو عمرہ بنا لو اور (عمرہ کر کے) حلال ہو جاؤ۔‘‘ آپ کو یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں: جب ہمارے اور یوم عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن کا فاصلہ رہ گیا ہے تو آپ ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں۔ ہم منیٰ کو جائیں گے تو گویا ہمارے اعضائے تناسل منی بہا رہے ہوں گے۔ نبیﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ’’جو بات تم نے کہی ہے، وہ مجھے پہنچ گئے ہے۔ یقینا میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور پرہیزگار ہوں اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں خود حلال ہو جاتا۔ اور اگر مجھے اس بات کا پہلے پتا چل جاتا جس کا بعد میں پتا چلا تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو رسول اللہﷺ نے پوچھا: ’’تم نے کیا احرام باندھا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: جو نبیﷺ نے باندھا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تم (یوم نحر کو) جانور ذبح کرنا۔ اور تم محرم رہو جس طرح تم ہو۔‘‘ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں: کیا اس ہمارے عمرے کی اجازت صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہمیشہ کے لیے۔‘‘ (۱) ’’کسی اور چیز کی نیت نہیں تھی۔‘‘ شروع میں ایسا ہی تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ بعض نے عمرے کا احرام باندھا تھا، پھر مکہ مکرمہ کے قریب جا کر عمرے کے لزوم کا حکم اترا تو وہاں سب نے حج کے ساتھ عمرہ بھی داخل کر لیا، پھر قربانیوں والے محرم رہے، دوسرے عمرہ کر کے حلال ہوگئے۔ حج کا احرام الگ باندھا۔ یہ توجیہ بہتر ہے کیونکہ اس طرح تمام احادیث اپنے معنی پر رہتی ہیں۔ (۲) ’’م،نی بہا رہے ہوں گے۔‘‘ یہ بطور مبالغہ کہا کہ حج سے اس قدر قریب جماع کرنا مناسب نہیں۔ یہ تقبیح کے لیے الفاظ ذکر کر دیے ورنہ انھیں کوئی بیماری تو نہیں تھی کہ ایسے ہوتا۔ اور حج کو تو احرام باندھ کر جانا تھا۔ (۳) ’’تم سے بڑھ کر نیک‘‘ یعنی جس کام کا میں حکم دوں، جو کام میں کروں، اس سے پرہیز کرنا حماقت ہے۔ اگر وہ کام قبیح ہوتا تو میں حکم ہی نہ دیتا۔ (۴) ’’جس کا بعد میں پتا چلا‘‘ کہ عمرہ کرنا لازم ہو جائے گا۔ (۵) ’’ہمیشہ کے لیے‘‘ یعنی تمتع قیامت تک کے لیے جائز ہے۔