سنن النسائي - حدیث 2797

الْمَوَاقِيتِ هَلْ يُوجِبُ تَقْلِيدُ الْهَدْيِ إِحْرَامًا صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2797

کتاب: مواقیت کا بیان کیا قربانی کے جانور کو قلادہ ڈالنا احرام کا موجب ہے؟ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے حرم کو جانے والے قربانی کے جانوروں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی تو آپ (انھیں حرم بھیجنے کے بعد) کسی چیز سے اجتناب نہیں فرماتے تھے۔ فرماتی ہیں: ہمیں معلوم ہے کہ حاجی کو بیت اللہ کا طواف ہی حلال کرتا ہے۔ ’’کسی چیز سے اجتناب‘‘ یعنی جماع وغیرہ سے اجتناب نہیں فرماتے تھے۔ اور یہ دلیل ہے کہ آپ محرم نہیں ہوتے تھے ورنہ محرم تو جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کر لے، جماع نہیں کر سکتا، عمرے کا احرام ہو یا حج کا۔ حج کا احرام اگرچہ منیٰ میں قربانی ذبح ہونے کے بعد کھولا جاتا ہے مگر بیوی سے جماع جائز نہیں جب تک وہ طواف زیارت نہ کر لے۔ عمرے کے احرام میں تو کوئی اشکال ہی نہیں۔