سنن النسائي - حدیث 2782

الْمَوَاقِيتِ مَا يُفْتَلُ مِنْهُ الْقَلَائِدُ صحيح أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2782

کتاب: مواقیت کا بیان قلادے کس چیز سے بٹے جائیں؟ حضرت ام المومنین (عائشہ صدیقہؓ) نے فرمایا: میں نے وہ قلادے اون سے بٹے تھے جو ہمارے پاس تھی، پھر آپ (قلادے والے جانوروں کو حرم بھیجنے کے بعد) ہم میں رہے۔ وہ تمام کام کرتے تھے جو ایک حلال شخص یا عام آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ عِھْن رنگ دار روئی یا اون کو کہتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قلادہ روئی یا اون ہی سے تیار کیا جائے بلکہ کسی بھی میسر چیز س تیار کیا سکتا ہے۔