سنن النسائي - حدیث 2777

الْمَوَاقِيتِ فَتْلُ الْقَلَائِدِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2777

کتاب: مواقیت کا بیان قلادے بٹنا(تیار کرنا) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور مکہ مکرمہ کو بھیجا کرتے تھے۔ میں آپ کے قربانی کے جانوروں کے قلادے (رسیاں) بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں فرماتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے۔ (۱) یہ بھی قربانی کی ایک صورت ہے کہ خود انسان اپنے گھر میں ٹھہرے اور قربانی کے جانور کسی معتمد شخص کے ہاتھ مکرمہ بھیج دے کہ وہاں حرم میں ذبح ہوں۔ اور یہ افضل قربانی ہے۔ (۲) ’’پرہیز نہیں فرماتے تھے۔‘‘ یعنی اس طرح جانور حرم میں بھیج دینے سے بھیجنے والا محرم نہیں بن جاتا کہ اس پر احرام کی پابندیاں لاگو ہوں بلکہ عام کپڑے پہنے گا اور جماع وغیرہ بھی کر سکے گا، البتہ ایک اور روایت میں قربانی کی نیت رکھنے والے شخص کو ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجامت (بال اور ناخن کاٹنے) سے روکا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، الاضاحی، حدیث: ۱۹۷۷) مگر اس کا جانور بھیجنے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حکم تو ہر قربانی کرنے والے کے لیے ہے، یہاں کرے یا حرم میں بھیجے۔ (۳) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ جانور حرم کو بھیجنے والا محرم ہو جاتا ہے، مگر یہ خیال درست نہیں۔ واللہ اعلم