سنن النسائي - حدیث 2765

الْمَوَاقِيتِ فِي الْمُهِلَّةِ بِالْعُمْرَةِ تَحِيضُ وَتَخَافُ فَوْتَ الْحَجِّ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ قَالَ هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2765

کتاب: مواقیت کا بیان عورت نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہو‘ اسے حیض شروع ہو جائے اور (انتظار کی صورت میں)حج فوت ہونے کا خطرہ ہو تو؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، پھر وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہو۔‘‘ میں مکہ میں آئی تو مجھے حیض آرہا تھا۔ (حیض کی بنا پر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ میں نے اس بات کی شکایت رسول اللہﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا: ’’(اپنا سر (یعنی بال) کھول لو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا۔ جب میں نے حج پورا کر لیا تو مجھے رسول اللہﷺ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ تیرے اس عمرے کی جگہ ہے (جو تجھ سے رہ گیا تھا)۔‘‘ تو جنھوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر وہ حلال ہوگئے، پھر انھوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد اپنے حج کا ایک اور طواف کیا لیکن جنھوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا، انھوں نے صرف ایک طواف کیا۔ (۱) ’’عمرے کا احرام باندھا‘‘ تفصیل سابقہ حدیث میں گزر چکی ہے۔ (۲) ’’اپنا سر کھول لو…‘‘ ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے عمرے کا احرامچھوڑ کر صرف حج کا احرام باندھا تھا اور انھوں نے صرف حج کیا تھا جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ لیکن درست بات یہی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے حج اور عمرہ دونوں کیے تھے جیسا کہ گزشتہ روایت میں اس کی تفصیل ہے۔ ’’عمرہ چھوڑ دے۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ عمرے کے افعال واعمال چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے کیونکہ عمرے کے اعمال حج کے اعمال میں داخل ہوگئے ہیں۔ اور نبیﷺ کا یہ فرمانا: ’’تو اپنے حج اور عمرے دونوں سے حلال ہوگئی۔‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عائشہؓ کا حج اور عمرہ دونوں ہو گئے تھے اور تنعیم والا عمرہ محض حضرت عائشہؓ کے اطمینان قلب کے لیے تھا۔ واللہ اعلم (۳) ’’سر کے بال کھول لو اور کنگھی کرو‘‘ احرام میں کنگھی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ احناف ناجائز کہتے ہیں۔ بعض نے عذر کی بنا پر جائز کہا ہے جبکہ جمہور مطلق جائز سمجھتے ہیں۔ راجح بات جمہور اہل علم کی ہے کیونکہ کنگھی نہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا احناف کا ان الفاظ سے عمرہ ختم کرنے کا استدلال درست نہیں۔ واللہ اعلم (۴) ’’صرف ایک طواف کیا‘‘ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے منیٰ سے واپس آکر طواف نہیں کیا، حالانکہ یہ حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ طواف تو فرض ہے۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ (دیکھیے حدیث: ۲۷۴۷، فائدہ: ۳)