سنن النسائي - حدیث 2685

الْمَوَاقِيتِ إِبَاحَةُ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2685

کتاب: مواقیت کا بیان احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا مباح ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگائی آپ کے احرام کے وقت جب آپ نے احرام کا ارادہ فرمایا اور حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت (خوشبو لگائی) پہلے اس سے کہ آپ مکمل حلال ہوں۔ (۱) ’’اپنے ہاتھوں سے۔‘‘ یعنی خوشبو اپنے ہاتھوں میں لگا کر وہ خوشبو آپ کے جسم اطہر پر لگا دی۔ (۲) احرام کے وقت خوشبو لگانے کا مطلب یہ ہے کہ احرام کے غسل کے بعد خوشبو لگائی جائے۔ پھر احرام کا لباس پہن لیا جائے۔ جمہور اہل علم اس کا یہی مفہوم بیان کرتے ہیں، تاہم اہل علم کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام کے غسل سے قبل خوشبو لگائی جائے، پھر غسل کر کے احرام باندھا جائے۔ دلائل کی رو سے جمہور اہل علم کا موقف راجح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۲۴/۹۰-۹۳) (۳) ’’حلال ہونے کے وقت۔‘‘ یعنی قربانی اور حجامت کے بعد کیونکہ اس وقت احرام ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا خوشبو جائز ہے مگر طواف زیارت (جو اسی دن کیا جاتا ہے) کرنے سے پہلے جماع جائز نہیں۔ یہی مطلب ہے ان الفاظ کا: ’’پہلے اس سے کہ مکمل حلال ہوں۔‘‘ کیونکہ مکمل حلال تو طواف زیارت کی ادائیگی کے بعد ہی ہوں گے۔ وضاحت آئندہ حدیث میں ہے۔