سنن النسائي - حدیث 2645

كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَحُجَّ عَنْ الرَّجُلِ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2645

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل مستحب یہ ہے کہ آدمی کی طرف سے اس کا بڑا بیٹا حج کرے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ’’تو اپنے والد کا سب سے بڑا بیٹا ہے، لہٰزا ترو اس کی طرف سے حج کر۔‘‘ حدیث میں مذکور مسئلے کی وضاحت حدیث: ۲۶۳۹ کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیے۔ (۲) گزشتہ تیرہ روایات جو حج بدل کے بارے میں ہیں، ان میں کسی جگہ سائل مرد ہے کہیں عورت۔ بعض روایات میں زندہ کے بارے میں سوال ہے، بعض میں میت کے بارے میں۔ کسی روایت میں باپ کا ذکر ہے، کسی میں ماں کا اور کسی میں بہن کا، تاہم جن روایات میں شذوذ تھا اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ بنا بریں یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں کیونکہ ایک ہی مسئلہ کئی اشخاص کو پیش آسکتا ہے۔ خصوصاً، اس لیے کہ حجۃ الوداع میں تمام علاقوں کے لوگ موجود تھے۔ فرضیت کے بعد عملاً یہ پہلا حج تھا۔ عموماً لوگ حج کے مسائل سے واقف نہ تھے، لہٰذا بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے حالات کے مطابق سوالات کیے، اس لیے سب روایات اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ کوئی اشکال نہیں۔ واللہ اعلم