سنن النسائي - حدیث 2631

كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ فَضْلُ الْمُتَابَعَةِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2631

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل پے در پے حج اور عمرہ کرنے کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’پے در پے حج اور عمرہ کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح زائل کرتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کرتی ہے۔‘‘ (۱) ’’پے در پے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ حج کے بعد عمرہ اور عمرے کے بعد حج، یعنی کبھی حج، کبھی عمرہ۔ (۲) ’’گناہوں کو زائل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ثواب گناہوں کے اثرات ختم کرتا رہتا ہے۔ یا حج اور عمرے کی برکت سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ جس قدر زیادہ حج اور عمرے ہوں گے اتنا ہی وہ گناہوں سے زیادہ دور ہوگا۔ (۳) فقر دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان عبادات پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص میرے راستے میں خرچ کرے گا، میں اسے زیادہ دوں گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لیے رزق کے معنوی دروازے کھول دے گا۔ ممکن ہے فقر سے مراد فقر قلب ہو، یعنی حج اور عمرہ پے در پے کرنے سے دل سخی بن جائے گا، دل میں بخل نہیں رہے گا۔ واللہ اعلم