سنن النسائي - حدیث 2623

كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ فَضْلُ الْحَجِّ الْمَبْرُورِ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارِ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2623

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل حج مبرور کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔‘‘ (۱) حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں شہوانی باتیں، فسق اور لڑائی جھگڑا نہ ہو جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے حج مبرور کے معنی مقبول حج کے کیے ہیں مگر مقبول مبرور کا معنی نہیں بلکہ لازم ہے، یعنی جو حج ان مفاسد سے پاک ہوگا، وہ لازماً قبول ہوگا۔ حج مبرور کی نشانی یہ بھی ہے کہ حج کرنے والا حج کے بعد پہلے سے بہترین جائے اور کبائر کا مرتکب نہ ہو۔ بعض نے حج مبرور سے مراد وہ حج لیا ہے جس میں ریا کاری نہ ہو۔ (۲) ’’جنت‘‘ یعنی وہ اولین طور پر جنت میں جائے گا۔ گویا حچ سے اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ (۳) ’’کفارہ‘‘ یعنی صغائر معاف ہو جائیں گے بشرطیکہ کبائر سے اجتناب کرے۔ بعض نے صغائر وکبائر دونوں مراد لیے ہیں کیونکہ صرف صغائر تو کبائر کے اجتناب سے بھی معاف ہو جاتے ہیں اور وضو سے بھی، نماز سے بھی، پھر حج کی کیا خصوصیت ہے؟ (۴) حج کی فضیلت عمرے سے زیادہ ہے۔ (۵) ایک سال میں کئی عمرے کیے جا سکتے ہیں لیکن حج سال میں ایک ہی دفعہ کیا جا سکتا ہے۔