سنن النسائي - حدیث 2611

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالَ نَعَمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2611

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل کسی قوم کا بھانجا بھی ان میں شامل ہوتا ہے حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا تم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کسی قوم کا بھانجا بھی اس قوم میں شامل ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: ہاں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ بنو ہاشم کا بھانجا بھی زکاۃ کا مستحق نہیں کیونکہ وہ بھی بنو ہاشم میں شامل ہے۔ اسی طرح اس روایت سے بعض حضرات نے بھانجے کی وراثت پر بھی استدلال کیا ہے، حالانکہ یہاں وراثت کی بحث ہی نہیں۔ آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ بھانجے کا اپنے ماموؤں کے ساتھ قوی تعلق ہوتا ہے، لہٰذا اسے ان سے غیر متعلق نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ارشاد آپ نے اس وقت فرمایا تھا جب آپ نے صرف انصار کو بلایا تھا۔ آپ کو بتلایا گیا کہ آنے والوں میں ان کا بھانجا بھی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، المناقب، حدیث: ۳۵۲۸)