سنن النسائي - حدیث 261

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب وُضُوءِ الْجُنُبِ وَغَسْلِ ذَكَرِهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 261

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ جنبی سونے کا ارادہ کرے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر لے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ (کبھی) میں رات کو جنبی ہو جاتا ہوں (تو کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ’’اپنی شرم گاہ دھولو، وضو کرلو، پھر سو جاؤ۔‘‘ جنبی کے لیے سونے سے پہلے کم از کم شرم گاہ دھونا یا صاف کرنا ضروری ہے۔ باقی رہا وضو تو یہ مستحب چیز ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔ بعض نے واجب بھی کہا ہے کہ ہوسکتا ہے، اسے موت آ جائے۔