سنن النسائي - حدیث 2600

كِتَابُ الزَّكَاةِ مَسْأَلَةُ الرَّجُلِ ذَا سُلْطَانٍ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ شَيْئًا لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2600

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل حاکم(صاحب اقتدار) سے مانگنا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بلا شبہ مانگنا خراشیں ہیں۔ آدمی اپنے چہرے کو ان کے ذریعے سے نوچتا ہے۔ اب جو چاہے اپنا چہرہ نوچے اور جو چاہے رہنے دے۔ الا یہ کہ کوئی شخص صاحب اقتدار سے مانگے یا ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔‘‘ (۱) ’’نوچتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں تو واقعتا چہرہ نوچا ہوا ہوگا۔ (۲) ’’اپنا چہرہ نوچے۔‘‘ یہ اجازت نہیں بلکہ ڈانٹ ہے، جیسے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے: {فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ} (الکھف: ۲۹) ’’چنانچہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘ روایت نمبر ۲۵۹۹ میں بھی ڈانٹ ہی ہے کہ تم چاہو تو تمھیں زکاۃ دے دیتا ہوں ورنہ تم مستحق نہیں۔ اگرچہ یہاں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وقتی فقیری کے پیش نظر انھیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ کمائی تو وہ بعد میں ہی کر سکتے ہیں۔ (۳) ’’صاحب اقتدار سے مانگے۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس مال اپنا ذاتی نہیں بلکہ عوام الناس کا ہے اور اس میں ہر شخص کا حق ہو سکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرے۔ (۴) ’’جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔‘‘ مثلاً: بھوکا آدمی خوراک مانگ سکتا ہے اور مریض علاج کے لیے تعاون لے سکتا ہے۔