سنن النسائي - حدیث 2589

كِتَابُ الزَّكَاةِ الِاسْتِعْفَافُ عَنْ الْمَسْأَلَةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2589

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل مانگنے سے پرہیز کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصار نے رسول اللہﷺ سے (مال) مانگا۔ آپ نے انھیں عطا کیا۔ انھوں نے پھر مانگا۔ آپ نے پھر دیا حتیٰ کہ جب آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہوگیا، تو آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس جو بھی مال ہوگا، میں وہ تم سے چھپا کر نہ رکھوں گا۔ اور جو شخص سوال سے پرہیز کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھے گا۔ اور جو شخص صبر کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے صابر بنائے گا۔ اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ اچھا اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔‘‘ (۱) ’’محفوظ رکھے گا۔‘‘ یعنی جو شخص سوال سے (مانگنے سے) بچنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسا موقع ہی نہیں آنے دے گا کہ اسے مانگنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات پوری فرماتا رہے گا مگر وہ حوصلہ رکھے اور لوگوں سے مانگنے میں جلدی نہ کرے۔ (۲) ’’صابر بنائے گا۔‘‘ یعنی صبر کے حصول کے لیے عزم کی بھی ضرورت ہے۔ ہمت کرے انسان تو کیا نہیں ہو سکتا۔ (۳) ’’وسیع عطیہ‘‘ یعنی صبر بہت بڑا عطیہ ہے مگر مصیبت زدہ کے لیے۔ ویسے اللہ تعالیٰ سے صبر کے اسباب نہیں مانگنے چاہئیں۔ ہاں! اگر کوئی مصیبت سر پر آن پڑے تو صبر مانگے۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ دین پر پختگی، حرام اور گناہ سے پرہیز، حوصلہ مندی اور مصیبت میں نہ گھبرانا یہ سب صبر ہی کے معانی ہیں۔