سنن النسائي - حدیث 2580

كِتَابُ الزَّكَاةِ الصَّدَقَةُ لِمَنْ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ صحيح أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ ح و أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ هَارُونَ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فِيهَا فَقَالَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ بَيْنَ قَوْمٍ فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2580

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل جو شخص کوئی تاوان اٹھا لے اسے زکاۃ دی جا سکتی ہے حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انھوں نے کہا: میں نے کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا، پھر میں نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے اس کی (ادائیگی میں تعاون کی) بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے کسی قوم میں (صلح کروانے کے لیے) کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا۔ وہ اس سلسلے میں لوگوں سے مدد مانگ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ تاوان اتار دے اور پھر مانگنے سے رک جائے۔‘‘ قرآن مجید میں بھی اس جیسے لوگوں کو زکاۃ کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے: {وَالْغَارِمِیْنَ} (التوبۃ۹ : ۶۰) اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی کی لڑائی ختم کرنے کے لیے متنازعہ رقم اپنے ذمے لے لیتا ہے مگر اتنی وسعت نہیں کہ خود ادا کر سکے۔ وہ زکاۃ کا مال لے کر تاوان ادا کر سکتا ہے۔