سنن النسائي - حدیث 2574

كِتَابُ الزَّكَاةِ تَفْسِيرُ الْمِسْكِينِ صحيح أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ حَاجَتَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2574

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل مسکین کی تفسیر (کہ وہ کون ہے؟) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں پلٹا دیتی ہیں۔‘‘ لوگوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! پھر مسکین کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص اتنا مال نہیں رکھتا جو کفایت کر سکے اور لوگوں کو اس (کے فقر) کا پتا نہیں چلتا کہ اس پر صدقہ ہو سکے۔‘‘ مذکورہ روایت معناً صحیح ہے جیسا کہ محقق کتاب نے لکھا ہے کہ بخاری ومسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ واللہ اعلم