سنن النسائي - حدیث 2568

كِتَابُ الزَّكَاةِ مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ اسْتَجَارَ بِاللَّهِ فَأَجِيرُوهُ وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2568

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل جو شخص اللہ عزوجل کے نام پر مانگے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے، اسے پناہ دو۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پر مانگے، اسے دو۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پر امن مانگے، اسے امن دو۔ اور جو شخص تم سے حسن سلوک کرے، اسے اس کا بدلہ دو اور اگر تمھیں بدلہ دینے کو کچھ نہ ملے تو اس کے لیے دعا کرو (اور کرتے رہو) حتیٰ کہ تمھیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ چکا دیا ہے۔‘‘ (۱) مذکورہ روایت کو مہقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد اور متابعات کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند احمد کے مہققین نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۲۳/ ۸۴-۸۷، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد: ۹/ ۲۶۶، ۲۶۷ والصحیحۃ للالبانی: ۱/ ۵۱۰، ۵۱۱۔ رقم الحدیث: ۲۵۴) (۲) اللہ تعالیٰ ہی عزت والا ہے۔ تمام بزرگی اور عظمت اللہ ہی کے لائق ہے۔ اس کی عظمت کا تقاضا ہے کہ جب اس کا مقدس نام آجائے تو انسان سر تسلیم خم کر دے۔ اور بساط بھر اس نام کی حرمت قائم رکھے،بشرطیکہ وہ غلط مطالبہ نہ ہو، یعنی شریعت کے خلاف نہ ہو اور اس سے کسی پر ظلم نہ ہوتا ہو اور نہ کسی کی حق تلفی۔