سنن النسائي - حدیث 2562

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب الْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2562

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل چھپا کر صدقہ کرنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے والا، علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی طرح۔‘‘ قرآن مجید میں چھپا کر صدقہ کرنے کو افضل کہا گیا ہے۔ اگرچہ علانیہ صدقہ کرنے والے کو بھی اچھا کہا گیا ہے کیونکہ دونوں میں الگ الگ فوائد ہیں۔ چونکہ علانیہ میں ریا کاری کا خطرہ قوی ہے، لہٰذا وہ افضل نہیں۔ لیکن بعض اوقات علانیہ صدقہ بھی افضل ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے دوسروں کو ترغیب و تشویش دینا مقصود ہو۔ بعض اہل علم نے یوں تطبیق دی ہے کہ فرض صدقہ علانیہ کیا جائے کیونکہ وہ اتہام والزام سے بچ جائے گا۔ دوسروں کو رغبت بھی ہوگی۔ اس میں ریا کاری کا امکان بھی کم ہے کیونکہ فرض کام تو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے، البتہ نفل صدقہ چھپا کر ہی دیا جائے کیونکہ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ اسے پوشیدہ ہی رہنا چاہیے جبکہ فرض تو پوشیدہ نہیں رہ سکتا، جیسے فرض نماز سب کے سامنے (باجماعت) پڑھنا فرض ہے جبکہ نفل نماز گھر ہی میں افضل ہے تا کہ ریا کا شائبہ نہ رہے۔