سنن النسائي - حدیث 2559

كِتَابُ الزَّكَاةِ الِاخْتِيَالُ فِي الصَّدَقَةِ حسن أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخُيَلَاءُ فِي الْبَاطِلِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2559

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل صدقے میں فخر کرنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ اسی طرح ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ پسندیدہ غیرت وہ ہے جو تہمت کے مقام پر ہو اور ناپسندیدہ غیرت وہ ہے جو بلا وجہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ فخر وہ ہے جو آدمی لڑائی کے وقت کرے یا صدقہ کرتے وقت۔ اور ناپسندیدہ فخر وہ ہے جو باطل میں ہو۔‘‘ (۱) ’’تہمت کے مقام پر۔‘‘ یعنی جس کام سے انسان شرعاً یا عرفاً متہم قرار پاتا ہو اس کام کو غیرت کی بنا پر چھوڑ دیا جائے، مثلاً: بدنام لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا۔ مے خانے اور جوا خانے میں بیٹھنا اور اسی طرح غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی اور خلوت اختیار کرنا وغیرہ۔ (۳) ’’پسندیدہ فخر۔‘‘ لڑائی کے وقت فخریہ ہے کہ اپنی قوت و جرأت کا اظہار کرے تاکہ کفار مرعوب ہوں۔ فخریہ اشعار پڑھنا بھی اس میں داخل ہے۔ اور صدقے کے وقت فخریہ ہے کہ خوب دل کھول کر صدقہ کرے، بلکہ صدقے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھے، کبھی کبھار دوسرے کو اپنے سے آگے بڑھنے کا چیلنج کرے۔ یاد رکھیے! اس سے ریا کاری یا وسائل پر فخر کرنا مراد نہیں کہ وہ تو گناہ کبیرہ ہے۔ ناجائز کام پر خرچ کرنا حرام ہے، خواہ ایک پیسہ ہو۔