سنن النسائي - حدیث 2557

كِتَابُ الزَّكَاةِ الشَّفَاعَةُ فِي الصَّدَقَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اشْفَعُوا تُشَفَّعُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2557

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل صدقے کے بارے میں سفارش کرنے کا بیان حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ’’سفارش کرو۔ تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کی زبانی جو چاہے گا، فیصلہ فرمائے گا۔‘‘ (۱) ’’سفارش کرو۔‘‘ یعنی جب کوئی حاجت مند مانگنے آئے تو تم اس کے حق میں سفارش کر دیا کرو۔ (۲) ’’تمہاری سفارش قبول ہوگی۔‘‘ اگر وہ قابل تسلیم ہوئی، یا مطلب ہے کہ تمہیں سفارش کا ثواب ملے گا جیسا کہ ایک دوسری روایت میں اس مفہوم کی صراحت ہے: [اِشْفَعُوا تُؤْجَرُوا] (صحیح البخاری، الزکاۃ، حدیث: ۱۴۳۲، وصحیح مسلم، البروالصلۃ، حدیث: ۲۶۲۷) یعنی معنی زیادہ مناسب ہیں۔ (۳) ’’فیصلہ فرمائے گا۔‘‘ یعنی فیصلہ تو نبیﷺ کے ہاتھ میں ہے جو وہ الٰہی تعلیمات کی روشنی میں فرمائیں گے۔ تم سفارش کر کے ثواب حاصل کر لیا کرو۔