سنن النسائي - حدیث 2538

كِتَابُ الزَّكَاةِ صَدَقَةُ الْعَبْدِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لِمَ ضَرَبْتَهُ فَقَالَ يُطْعِمُ طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ أَمْرِي قَالَ الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2538

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل غلام کا (مالک کے مال میں سے) صدقہ کرنا؟ حضرت عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے مالک نے حکم دیا کہ میں کچھ گوشت تیار کروں۔ اتفاقاً ایک مسکین آگیا۔ میں نے کچھ اسے کھلا دیا۔ میرے مالک کو اس کا علم ہوا تو اس نے مجھے مارا۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا (اور شکایت کی)۔ آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ’’تو نے اسے کیوں مارا؟‘‘ اس نے کہا: یہ میری اجازت کے بغیر میرا کھانا (فقراء کو) کھلاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’(پھر کیا ہوا؟) ثواب تم دونوں کو ملے گا۔‘‘ (۱) ’’آبی اللحم‘‘ یہ ان کا لقب تھا۔ نام خلف بتایا جاتا ہے۔ اور بھی اقوال ہیں اس کے لفظی معنی ہیں: گوشت کا انکار کرنے والا۔ ان کا یہ لقب اس لیے تھا کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ دور جاہلیت میں وہ بتوں کے لیے ذبح شدہ گوشت نہیں کھاتے تھے۔ مذکورہ حدیث میں گوشت تیار کرنے کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام گوشت کھاتے تھے۔ ممکن ہے مہمانوں یا اہل خانہ کے لیے تیار کروایا ہو۔ مالک سے مراد یہی ہیں۔ (۲) ’’ثواب دونوں کو ملے گا۔‘‘ البتہ مالک کی اجازت ضروری ہے الا یہ کہ بہت ہی معمولی چیز ہو۔ مالک کو حکم یا رضا مندی کا ثواب اور غلام کو ادائیگی کا ثواب، لیکن ضروری نہیں کہ برابر ہو۔