سنن النسائي - حدیث 2516

كِتَابُ الزَّكَاةِ الدَّقِيقُ حسن صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمْ نُخْرِجْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ ثُمَّ شَكَّ سُفْيَانُ فَقَالَ دَقِيقٍ أَوْ سُلْتٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2516

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل صدقۂ فطر میں آٹا دینا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ہم کھجور، جَو، کشمش، آٹا، پنیر یا سلت وغیرہ سے ایک صاع ہی (صدقۃ الفطر) دیتے تھے، پھر راوی سفیان کو شک ہوا اور انھوں نے کہا: آٹا یا سلت۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق حدیث میں ’’دقیق‘‘ ’’آٹے‘‘ کا ذکر درست نہیں۔ متقدمین اکثر محدثین نے بھی اسے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ دیکھیے (ذخیرۃ العقبی، شرح سنن النسائی: ۲۲/ ۳۰۲۔۳۰۳( باقی ساری حدیث حسن صحیح ہے۔ مزید دیکھیے: (ارواہ الغلیل: ۳/ ۳۳۸) لیکن چونکہ یہ ہماری عام خوراک ہے، نیز حدیث میں گندم کا صریح ذکر بھی آیا ہے، اس لیے اس کا صدقہ فطر میں دینا جائز ہے۔