سنن النسائي - حدیث 2514

كِتَابُ الزَّكَاةِ الزَّبِيبُ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2514

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل (صدقئہ فطر میں)کشمش (دینا) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہﷺ ہم میں موجود تھے تو ہم صدقۃ الفطر طعام (گندم یا ہر خوراک والا غلہ) جو، خشک کھجور، کشمش یا پنیر سے ایک صاع دیا کرتے تھے۔ (۱) لفظ طعام سے مراد گندم بھی ہو سکتی ہے کیونکہ باقی چیزوں کا الگ بیان ہے مگر لغت کے لحاظ سے ہر مطعوم (خوراک والی چیز) کو طعام کہا جا سکتا ہے۔ اور اس میں گندم بھی داخل ہوگی۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گندم میں ایک صاع ہی کے قائل تھے، نیز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے کہ آدھا صاع گندم بھی دی جا سکتی ہے، وہ سخت مخالف تھے مگر یہ صرف سیدنا معاویہ ہی کی رائے نہ تھی بلکہ بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس رائے کے حامل تھے، جیسے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ دیکھیے (سنن الدارقطنی: ۲/ ۳۴۶، والروضہ الندیۃ مع التعلیقات الرضیۃ: ۱/ ۵۴۹) مزید برآں یہ کہ یہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے یا ان کا اجتہاد ہی نہ تھا بلکہ رسول اللہﷺ سے اس بارے میں مروی حدیث بھی ہے جیسا کہ حدیث: ۲۵۱۰ کے فوائد میں گزرا۔ ممکن ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو وہ حدیث معلوم نہ ہو، اور یہ بعید از قیاس بھی نہیں۔ جس سے ان کے موقف میں مزید سختی پیدا ہوگئی۔ واللہ اعلم (۲) کشمش انگور سے تیار ہوتی ہے۔ چونکہ انگور زیادہ دیر تک رکھا نہیں جا سکتا، لہٰذا صدقۃ الفطر میں انگور دینا درست نہیں بلکہ اسے خشک کر کے کشمش کی صورت میں دیا جائے۔