سنن النسائي - حدیث 2508

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب فَرْضِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ نُزُولِ الزَّكَاةِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ وَنُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ وَنَزَلَتْ الزَّكَاةُ لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَكُنَّا نَفْعَلُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2508

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل صدقۂ فطر کی فرضیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے تھی حضرت قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ ہم عاشوراء (۱۰ محرم الحرام) کا روزہ رکھتے تھے اور صدقۃ الفطر ادا کیا کرتے تھے۔ جب رمضان المبارک کے روزوں اور زکاۃ کی فرضیت نازل ہوئی تونہ ہمیں اس کا نیا حکم دیا گیا اور نہ اس سے روکا گیا۔ ویسے ہم یہ کام کرتے رہے۔ اس روایت سے عض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ صدقۃ الفطر فرض نہیں رہا، حالانکہ اس قول میں ایسی کوئی صراحت نہیں کیونکہ ایک نئی چیز کی فرضیت سے پرانی چیز کی فرضیت منسوخ نہیں ہو جاتی ہے۔ اور نہ اس کے لیے کسی نئے حکم ہی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری صریح روایات میں اس کی فرضیت ثابت ہے۔ زکاۃ کی فرضیت تو ۲ ہجری کی ہے۔ بعد میں مسلمان ہونے والے حضرات نے اس کی فرضیت ذکر کی ہے، مثلاً: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (دیکھیے، حدیث: ۲۵۱۰، ۲۵۱۷) لہٰذا صدقۃ الفطر زکاۃ کی فرضیت کے باوجود فرض ہے، البتہ احناف نے اسے واجب کہا ہے مگر عملاً واجب اور فرض میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ باقی رہا عاشوراء کا روزہ تو اس کے بارے میں صراحتاً مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھنے نہ رکھنے کا اختیار دے دیا تھا۔