سنن النسائي - حدیث 2501

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب زَكَاةِ النَّحْلِ حسن أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ هِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ إِنْ أَدَّى إِلَيَّ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2501

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل مکھیوں کے شہد میں زکاۃ حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے پاس اپنے شہد کی زکاۃ لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ (شہد والی) وادی سلبہ ان کے لیے مخصوص فرما دیں۔ رسول اللہﷺ نے وہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی، پھر جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو (وہاں کے حاکم) سفیان بن وہب نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ اگر وہ تجھے اپنے شہد کا عشر ادا کرتے رہیں جو رسول اللہﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو وادی سلبہ ان کے لیے مخصوص رکھو ورنہ یہ بارشی مکھی (کا شہد) ہے، جو چاہے اسے کھائے۔ (۱) شہد میں زکاۃ اختلافی مسئلہ ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبلL شہد میں عشر کے قائل ہیں کیونکہ اس بارے میں کچھ احادیث منقول ہیں، اگرچہ بعض میں کلام ہے مگر مجموعی طور پر قوی ہو جاتی ہیں، لہٰذا وہ قابل حجت ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے شہد میں عشر کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ مزید تفصیل اور طرق وشواہد کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (ارواہ الغلیل، رقم الحدیث: ۸۱۰) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تو ہر قلیل وکثیر شہد میں عشر کے قائل ہیں۔ لیکن یہ موقف درست نہیں کیونکہ انھی احادیث میں اس کا نصاب بھی دس مشکیزے بتایا گیا ہے۔ اور یہی راجح ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام بخاری رحمہم اللہ شہد میں عشر کے قائل نہیں کیونکہ ان کے نزدیک مذکورہ روایات ضعیف ہیں، نیز اس باب میں مذکورہ حدیث میں ایک علاقہ حضرت ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص کرنے کے عوض شہد کا ایک حصہ وصول کرنے کا ذکر ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ اگر علاقہ مخصوص نہ کیا جاتا تو عشر کا مطالبہ نہ ہوتا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ چونکہ علاقہ مخصوص کرنے کی وجہ سے ان کے پاس شہد کی کثیر مقدار جمع ہو جاتی تھی، لہٰذا ان پر زکاۃ واجب تھی جبکہ معمولی مقدار میں شہد حاصل کرنے والے پر زکاۃ (عشر) واجب نہیں، جس طرح دوسری عشری چیزیوں میں ہے۔ بہرحال تجارتی بنیادوں پر شہد کا وسیع کاروبار کرنے والوں پر زکاۃ لاگو ہوگی۔ (۲) ’’بارشی مکھی۔‘‘ کیونکہ بارش کا اس کی افزائش سے گہرا تعلق ہے، اسی لیے بارشی موسم میں مکھی زیادہ ہوتی ہے، یا جن چیزوں پر اس مکھی کا گزارہ ہوتا ہے، وہ بارش ہی سے اگتی اور بڑھتی ہیں۔