سنن النسائي - حدیث 2494

كِتَابُ الزَّكَاةِ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ{ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ } صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ قَالَ هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2494

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل اللہ کے فرمان:{ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ } کی تفسیر حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف اللہ تعالیٰ کے فرمان: {وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ} ’’تم (اللہ تعالیٰ کے راستے میں) خرچ کرتے وقت ردی چیز نہ دیا کرو۔‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مصداق جعرور اور لون جبیق کھجوریں ہیں۔ رسول اللہﷺ نے زکاۃ میں ردی اور ناقص مال وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جعرور اور لون جبیق کھجوروں کی ردی قسمیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کھجوریں ہوتی تھیں جن کی کوئی وقعت نہ تھی، البتہ یاد ہے کہ اگر پیداوار ہی اس قسم کی ہے تو ظاہر ہے کہ زکاۃ میں بھی وہی دی جائیں گی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیداوار میں اچھی قسم کی یا ملی جلی کھجوریں ہوں تو زکاۃ میں ردی کھجوریں نہ لی جائیں جیسی پیداوار ہو، اس کے مطابق ہی زکاۃ چاہیے تاکہ بیت المال کا نقصان ہو، نہ مالک کا۔