سنن النسائي - حدیث 2464

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب إِعْطَاءِ السَّيِّدِ الْمَالَ بِغَيْرِ اخْتِيَارِ الْمُصَّدِّقِ ضعيف أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ قَالَ اسْتَعْمَلَ ابْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ فَبَعَثَنِي أَبِي إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ لِآتِيَهُ بِصَدَقَتِهِمْ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ يُقَالُ لَهُ سَعْرٌ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ قَالَ ابْنَ أَخِي وَأَيُّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ قُلْتُ نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا لَنَشْبُرُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ قَالَ ابْنَ أَخِي فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَا إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ قَالَ قُلْتُ وَمَا عَلَيَّ فِيهَا قَالَا شَاةٌ فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةٍ مَحْضًا وَشَحْمًا فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا فَقَالَ هَذِهِ الشَّافِعُ وَالشَّافِعُ الْحَائِلُ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا قَالَ فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلَادُهَا فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا فَقَالَا نَاوِلْنَاهَا فَرَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2464

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل مالک زکا ۃ اپنی مرضی سے دے گا ‘صدقہ لینے والا اپنی مرضی نہیں کرے گا حضرت مسلم بن ثفنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن علقمہ (حاکم نے میرے والد کو ان کی قوم کا نمبردار (یا سردار بنایا اور انھیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے زکاۃ وصول کریں۔ تو میرے والد نے مجھے ایک قبیلے کی طرف بھیجا تاکہ میں ان کی زکاۃ لے کر آؤں۔ میں گیا حتیٰ کہ ایک بزرگ کے پاس پہنچا جنھیں حضرت سعر کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا: مجھے والد محترم نے تمھاری طرف بھیجا ہے تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کر دیں۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! تم کس قسم کی بکریاں لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چن کر لیتے ہیں حتیٰ کہ ان کے تھن بالشت کے ساتھ ماپ کر دیکھتے ہیں۔ وہ فرمانے لگے: اے بھیجتے! میں تجھے بتاتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ان وادیوں میں سے کسی وادی میں رہتا تھا۔ میرے پاس بکریاں ہوتی تھیں۔ میرے پاس دو آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور کہنے لگے: ہم آپ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے کہا: مجھ پر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ انھوں نے کہا: ایک بکری۔ ایک ایسی بکری جس کی قدر ومنزلت میں جانتا تھا، میں نے وہ خالص دودھ اور چربی سے بھری ہوئی (بہترین موٹی تازی دودھ والی بکری پکڑی اور ان کے پاس لے آیا۔ وہ کہنے لگے: یہ تو بچے والی ہے اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے والی بکری لینے سے منع کیا ہے۔ میں ایک سال بھر عمر کی گابھن بکری، جس نے بچہ نہیں جنا تھا جو کہ جننے کے قریب تھی، کہ (ریوڑ سے نکال کر ان کے پاس لایا تو وہ کہنے لگے: یہ ٹھیک ہے۔ ہمیں پکڑا دو۔ انھوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لادا اور چلے گئے۔