سنن النسائي - حدیث 2461

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب صَلَاةِ الْإِمَامِ عَلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2461

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل حاکم کا صدقہ دینے والے کے لیے دعا کرنا حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مالوں کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے ہیں: ’’اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما۔‘‘ میرے والد محترم آپ کے پاس اپنی زکاۃ لے کر گئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے اللہ! ابو اوفیٰ کے خاندان پر رحمت نازل فرما۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا چونکہ موجب رحمت تھی، اس لیے آپ کو خصوصی حکم دیا گیا کہ جب کوئی زکاۃ لے کر آئے تو اس کے لیے رحمت کی دعا فرمائیں۔ اس سے انھیں دلی سکون حاصل ہوگا۔ اور اللہ کی رحمت مستزاد ہوگی۔ آج کل یہ فریضہ حکام کے بجائے علماء پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ حکومت زکاۃ وصول نہیں کرتی۔ ویسے بھی [اِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ] ’’علماء انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، العلم (معلقاً باب: ۱۰، وسنن ابی داود، العلم، حدیث: ۳۶۴۱