سنن النسائي - حدیث 2448

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَاب زَكَاةِ الْإِبِلِ صحيح أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2448

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل اونٹوں کی زکاۃ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں اور پانچ اوقیے سے کم (چاندی یا رقم میں زکاۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں۔‘‘ (۱ ’’پانچ وسق‘‘ وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ صاع ایک پیمانہ ہے، وزن نہیں۔ اس میں غلے کی ہر قسم کا وزن مختلف ہوگا مگر اوسط وزن ۲ سیر ۴ چھٹانک اور موجودہ وزن کے مطابق ۰۹۹۔۲ کلو گرام ہوتا ہے۔ گویا وسق ۳ من ۱۵ سیر اور موجودہ وزن کے مطابق ۹۷۱۔۱۲۵ کلو گرام اور پانچ وسق ۸۵۵۔۶۲۹ کلو گرام (تقریباً ۱۶ من کے ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی غلے کی پیداوار اس سے کم ہو تو اس میں زکاۃ (عشر وغیرہ نہ ہو گی۔ (۲ ’’پانچ اوقیہ‘‘ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ پانچ اوقیے ۲۰۰ درہم ہوں گے۔ درہم سکہ بھی تھا اور وزن بھی۔ آج کل اکثر علماء کے نزدیک اس وزن کی چاندی کی قیمت نصاب ہے۔ اس سے کم میں زکاۃ نہیں۔ ۲۰۰ درہم کا وزن تقریباً ساڑھے باون تولے ہے۔ اور موجودہ وزن کے مطابق ۳۶۰۔۶۱۲ گرام ہوتا ہے۔ مروجہ کرنسی کی زکاۃ اسی حساب سے ہوگی۔