سنن النسائي - حدیث 242

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب ذِكْرِ تَرْكِ الْمَرْأَةِ نَقْضَ ضَفْرِ رَأْسِهَا عِنْدَ اغْتِسَالِهَا مِنْ الْجَنَابَةِ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهَا عِنْدَ غَسْلِهَا مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى جَسَدِكِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 242

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ غسل جنابت کے وقت عورت کا اپنے سر کی مینڈھیاں نہ کھولنے کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی مینڈھیاں مضبوطی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے وقت انھیں کھولوں؟ آپ نے فرمایا: ’’تمھیں اتنا کافی ہے کہ اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈال لیا کرو، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا لو۔‘‘ (۱) عورت کے بال بڑے ہوتے ہیں۔ مینڈھیاں بنانا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے۔ غسل میں مینڈھیاں کھولیں تو دقت پیش آتی ہے۔ کھولنے اور دوبارہ بنانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے عورتوں کی مجبوری کا لحاظ رکھتے ہوئے غسل جنابت میں مینڈھیاں نہ کھولنے کی اجازت دی ہے۔ اتنا ضروری ہے کہ سر پر پانی ڈال کر بالوں میں انگلیاں پھیری جائیں تاکہ سر کی کھوپڑی اور بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں۔ گویا سارا جسم تر ہو جائے۔ (۲) مینڈھیاں تو ویسے بھی زائد لٹکنے والے بال ہیں، اگر وہ تر نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں، البتہ اوپر سے دھو لیے جائیں۔ (۳) غسل حیض ایک ماہ میں ایک دفعہ ہی ہے، اس کے لیے مینڈھیاں کھولنے میں کوئی دقت نہیں، لہٰذا غسل حیض میں مینڈھیاں کھول کر بالوں کو اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا) (البقرۃ ۲۸۶:۲) ’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی وسعت و گنجائش سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔‘‘