سنن النسائي - حدیث 2394

كِتَابُ الصِّيَامِ صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ فِي ذَلِكَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2394

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل ایک دن روزہ رکھنا اور ایک د ن افطار کرنا اور اس بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنے والوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کے سامنے میری بات ذکر کی گئی کہ میں ساری رات عبادت کیا کروں گا اور ہر دن روزہ رکھا کروں گا جب تک بھی زندہ رہا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تو یہ بات کہتا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقینا میں نے یہ بات کہی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تو اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گا، لہٰذا روزہ رکھ اور ناغہ بھی کر، سو بھی اور عبادت بھی کر۔ اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ چونکہ نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، لہٰذا یہ (ثواب کے لحاظ سے) ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہو جائیں گے۔‘‘ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر ایک دن رو زہ رکھ اور دو دن ناغہ کر۔‘‘ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن ناغہ کر۔ اور یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں اور یہ افضل ترین روزے ہیں۔‘‘ میں نے کہا: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اس سے افضل کوئی روزہ نہیں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ تین روزے ہی قبول کر لیتا جو اللہ کے رسولﷺ نے میرے لیے تجویز فرمائے تھے تو (اب) یہ مجھے میرے اہل ومال سے زیادہ پسند اور محبوب ہوتا۔ ’’میں وہ تین روزے ہی قبول کر لیتا۔‘‘ یہ سوچ انھیں بڑھاپے میں آئی جب اس قدر سخت عبادت کو برداشت کرنا مشکل ہوگیا، مگر وہ جاری شدہ نیکی کو ختم کرنے یا کم کرنے کو بھی مناسب نہ سمجھتے تھے۔