سنن النسائي - حدیث 2391

كِتَابُ الصِّيَامِ صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ فِي ذَلِكَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَكَانَ يَأْتِيهَا فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْتِنِي بِهِ فَأَتَيْتُهُ مَعَهُ فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ قُلْتُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ وَأَفْطِرْ يَوْمًا قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صَوْمُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2391

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل ایک دن روزہ رکھنا اور ایک د ن افطار کرنا اور اس بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنے والوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے والد نے ایک صاحب رتبہ (عالی نسب) خاتون سے میرا نکاح کر دیا، پھر وہ (اکثر) اس کے پاس آکر اس کے خاوند کے (یعنی میرے) بارے میں پوچھتے تو وہ خاتون کہتی: بڑے اچھے آدمی ہیں جو کبھی میرے بستر پر نہیں ائے اور جب سے میں آئی ہوں، کبھی میرا پہلو تلاش نہیں کیا۔ میرے والد نے یہ بات نبیﷺ کے گوش گزار کی تو آپ نے فرمایا: ’’اسے لے کر میرے پاس آنا۔‘‘ میں ان کے ساتھ آپﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’تم روزے (نفل) کیسے رکھتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ہر روز۔ آپ نے فرمایا: ’’ہر ہفتے سے تین دن روزے رکھو۔‘‘ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’دو دن روزہ رکھو اور ایک دن ناغہ کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھو جو افضل ترین روزے ہیں۔ ایک دن روزہ، ایک دن ناغہ۔‘‘ (۱) اس روایت میں سوال اور جواب کی ترتیب صحیح نہیں۔ کسی راوی سے غلطی ہوگئی ہے۔ اس نے یوں مخل اختصار کر دیا ہے۔ آئندہ روایات سے صحیح ترتیب معلوم ہو رہی ہے۔ (۲) ’’پہلو تلاش نہیں کیا۔‘‘ یعنی کبھی خاوند بیوی والا تعلق قائم نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے، اس لیے توجہ بیوی کی طرف نہ گئی۔ والد محترم نے خود توجہ دلانے کے بجائے رسول اللہﷺ سے رجوع کیا۔