سنن النسائي - حدیث 2386

كِتَابُ الصِّيَامِ سَرْدُ الصِّيَامِ صحيح أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ صُمْ إِنْ شِئْتَ أَوْ أَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2386

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل لگا تار روزے رکھنا؟ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی رکھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اگر تو چاہے تو رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔‘‘ یہاں پے در پے روزوں سے پورے سال کے مسلسل روزے رکھنا مراد نہیں کیونکہ احادیث میں اس کی سخت ممانعت ہے، شرعاً ایسے روزے ناقابل اعتبار ہیں۔ مجموعی دلائل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سرد الصیام سے مراد مسلسل مہینہ دو مہینے روزے رکھنا ہے اور بس۔ واللہ اعلم اور اس کے جواز میں ان شاء اللہ کوئی تردد نہیں۔