سنن النسائي - حدیث 2375

كِتَابُ الصِّيَامِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَطَاءٍ فِي الْخَبَرِ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2375

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل اس کے بارے میں وارد حدیث میں حضرت عطا ءکے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس نے بلاناغہ روزہ رکھا اس کا کوئی روزہ نہیں۔‘‘ صیام داود علیہ السلام سے زائد روزے نہیں رکھنے چاہئیں کیونکہ یہ افضل ترین ہیں۔ اگر کوئی زائد رکھے گا تو بھی زائد ثواب حاصل نہ کر سکے گا۔ ایک آدھ ماہ میں ایسے ہو تو الگ بات ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے، مسلسل ایسا کرنا منع ہے۔