سنن النسائي - حدیث 2315

كِتَابُ الصِّيَامِ الرُّخْصَةُ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يَصُومَ بَعْضًا وَيُفْطِرَ بَعْضًا صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2315

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل مسافر کو اجازت ہے کہ کچھ روزے رکھ لے کچھ چھوڑ دے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فتح مکہ والے سال رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہوئے گئے، حتیٰ کہ جب مقام کدید میں پہنچے تو (اس دن کا) روزہ کھول لیا۔ (۱)یہ روایت مع فائدہ پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھئے حدیث ۲۲۹۱۔ (۲)اس روایت میں افطار کی جگہ کدید بتلائی گئی ہے جو کہ ژسفان اور قدید کے درمیان ہے، لہٰذا یہ روایت دوسری روایات سے مختلف نہیں۔ (دیکھئے، حدیث: ۲۲۹۲)۔ (۳)باب کا مقصد یہ ہے کہ اگر مسافر سفر میں روزہ رکھنے کو ترجیح دے تو ضروری نہیں کہ وہ سب روزے رکھے بلکہ کچھ رکھ لے کچھ نہ رکھے۔ بعد میں بھی رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔