سنن النسائي - حدیث 2284

كِتَابُ الصِّيَامِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ غَيْلَانَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلَابَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقَالَ لِرَجُلٍ ادْنُ فَاطْعَمْ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَادْنُ فَاطْعَمْ فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2284

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل اس حدیث کے بیان میں معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک کا اختلاف حضرت غیلان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں گیا۔ انہوں نے کھانا میرے قریب کیا۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ رسول اللہﷺ (ایک دفعہ) سفر میں نکلے۔ آپ نے کھانا قریب کیا اور ایک آدمی سے فرمایا: ’’آؤ! کھانا کھاؤ۔‘‘ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نصف نماز اور روزہ سفر میں معاف کر دیا ہے، لہٰذا تم قریب آؤ اور کھاؤ۔‘‘ (غیلان نے کہا:) (یہ حدیث سن کر) میں قریب ہوا اور میں نے کھانا کھایا۔ (۱)ایک حدیث کی اس قدر تکرار کی وجوہات اس سے قبل مختلف مقامات پر ذکر ہو چکی ہیں، مثلاً حدیث: ۲۱۳۲ کے فوائد دیکھ لیں۔ (۲)روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا واقعہ ایک سے زائد صحابہ کے ساتھ پیش آیا اور یہ کوئی بعید بات نہیں۔